6 دسمبر 2018 - 19:56
سعودی خاندان میں اقتدار کی خونی جنگ/ خاشقجی کا قتل ایک نتیجہ

واشنگٹن پوسٹ کے صحافی ڈیوڈ اگنیٹیس نے لکھا: جمال خاشقجی کے وحشیانہ قتل کے پیچھے شاہی خاندان کے درمیان کی طاقت کی جنگ واقع ہوئی ہے جس سے محمد بن سلمان کے نفسیاتی خلل اور لا پرواہی کو تقویت ملی ہے۔ نتیجے کے طور پر واشنگٹن پوسٹ کے صحافی کو قتل کیا گیا اور ان کے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے گئے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اس خاندانی المیئے کا آغاز جنوری 2015ع‍ میں ریاض کے اسپتال کے وی آئی پی سوئیٹ میں ہوا، جبکہ شاہ عبداللہ وہیں بستر مرگ پر پڑے تھے۔ ایک سعودی شہری کے مطابق، جو اس وقت اسپتال میں موجود تھا، عبداللہ کے بیٹوں اور درباریوں نے یہ بات بادشاہ کے جانشین سلمان کو بتانے میں تاخیر کی تھی کہ "بادشاہ گذر گئے ہیں"؛ شاید انہیں امید تھی کہ اس طرح وہ دربار کا خزانہ اپنے قابو میں رکھ سکیں گے اور سعودی خاندان کے شاہ عبداللہ کے حامی گروپ کے [اس وقت کے] طاقتور عہدوں کو محفوظ رکھ سکیں گے۔
بعد کے برسوں میں بنی سعود خاندان کے اندر کی خونی منصوبہ کاری ان سب واقعات سے مطابقت رکھتی ہے جو "تاج و تخت کا کھیل" (Game of Thrones) نام ڈرامہ سیریل میں دکھا جاتا ہے۔ یہ المیہ امریکہ، چین، سویٹزرلینڈ اور دوسرے ممالک تک بھی پھیل گیا؛ اور یہ منصوبہ بندی اس وقت شروع ہوئی جب بنی سعود قبیلے کی دو طاقتور شاخوں نے طاقت کی جنگ میں اپنی دوڑ کا آغاز کیا۔ تناؤ بڑھ گیا تو شاہی دربار میں ـ نئے بادشاہ سلمان کے پسندیدہ بیٹے محمد بن سلمان یہاں تک جری ہوئے کہ انھوں نے اگست 2016ع‍میں سابق بادشاہ عبداللہ کی شاخ کے ایک رکن کو چین کے دارالحکومت سے اغوا کرنے کی کوشش کی۔ جو ایک سنسنی خیز جاسوسی ناول کی ایک فصل سے شباہت رکھتی ہے۔
سلمان کا بیٹا ـ المعروف بہ ایم بی ایس (MBS) ـ تیز رفتاری کے ساتھ ان لوگوں کی نسبت پریشان حالی اور جارح بن چکا ہے، جنہیں وہ اپنا دشمن سمجھتا ہے۔ امریکی اور سعودی ماہرین کے مطابق، سعودی انٹیلیجنس کارکنوں کی ایک ٹیم نے ـ سعودی شاہی دربار کے زیر نگرانی ـ 2017 کے موسم بہار سے اندرون و بیرون ملک سعودی باشندوں کو اغوا کرنے کا آغاز کیا ہے۔ گرفتار افراد کو خفیہ مقامات پر قید کیا گیا۔ سعودیوں نے گرفتار افراد کو بولنے پر مجبور کرنے کے لئے، تفتیش کی جدید اور متشدانہ روشوں کو استعمال کیا جو تشدد کا حیرت انگیز طریقہ تھا۔ انہیں حلف نامے پر دستخط کرنا پڑے جس کے تحت اگر وہ ان واقعات کو فاش کریں جو تفتیش کے دوران ان پر گذرے ہیں تو انہیں اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
یہ سچی داستان مجھے، خاشقجی کے قتل کے بعد ہفتوں کے دوران، امریکہ کے اندر اور اس ملک سے باہر سعودی اور یورپی ماہرین کے مکالموں سے ملی۔ واقعات کے سلسلے میں ان ذرائع کی معلومات اول درجے کی معلومات ہیں لیکن چونکہ وہ حساس بین الاقوامی مسائل کے سلسلے میں فعال کردار ادا کررہے ہیں لہذا انھوں نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کو کہا ہے۔ موصولہ اطلاعات کی تصدیق امریکی خفیہ ایجنسیوں سے کرائی گئی ہے۔ یہ معلومات غضب اور لاقانونیت کے بھنور کی وضاحت میں مدد دیتی ہیں جنہوں نے آخرکار واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشقجی کو ـ 2 اکتوبر 2018ع‍کو استنبول میں سعودی قونصلیٹ میں داخلے کے بعد ـ نگل لیا۔
یہاں امریکی اور سعودی ماہرین کی آراء کا خلاصہ درج کیا جارہا ہے جنہوں نے معلومات کا جائزہ لیا ہے:
- خاشقجی کو ریاض کے شاہی دربار کی بھجوائی گئی ٹیم نے قتل کیا۔ یہ ٹیم تیز رفتار کارروائی کی اس قوت کا حصہ تھی جس کو خاشقجی کی اشتعال انگیز صحافت نیز قطر اور ترکی کے ساتھ ان کے قریبی تعلق کے 18 مہینے قبل، معرض وجود میں لایا گیا تھا۔ خاشقجی کی صحافت اور قطر اور ترکی کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات نے مطلق العنان سعودی ولیعہد کو غضبناک کیا، جس نے جولائی 2018ع‍طور پر "اسے واپس لاؤ" کا حکم نامہ جاری کیا جس کو امریکی انٹیلیجنس ایجنسیاں بھی تین مہینوں تک نہیں سمجھ سکی تھیں! اور انہیں اس وقت اس کا علم ہوا جب جمال خاشقجی لاپتہ ہوئے۔
امریکہ نے اس بین الاقوامی جنگ کا قریب سے مشاہدہ کیا گیا ہے۔ ٹرمپ کا داماد و مشیر، جیرڈ کوشنر (Jared Kushner) ایم بی ایس کا قریبی مشیر بن گیا۔ کوشنر نے اکتوبر 2017ع‍کے آخری ایام میں ریاض میں ایم بی ایس کے ساتھ خفیہ ملاقات کی جس کی تفصیلات سامنے نہيں آئیں؛ لیکن عین ممکن ہے کہ وہ بنی سعود کے شاہی خاندان کی سازشوں کے سلسلے میں ایم بی ایس کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کی غرض سے اس دورے پر گیا ہو؛ [کیونکہ] کوشنر کے دورے کے صرف ایک ہفتے بعد، ایم ایس نے 4 نومبر 2017ع‍کو ایک ایسا اقدام کیا جس کو اندرونی بغاوت کا نام دیا گیا۔ اس نے 200 سے زائد سعودی شہزادوں اور تجارتی شخصیات کو گرفتار کرکے ریاض کے ریٹزکارلٹن ہوٹل میں قید کرلیا۔ گرفتاریوں کا یہ منصوبہ شاہی دربار میں ایم بی ایس کے قابل اعتماد ساتھیوں کی مدد سے، نہایت احتیاط کے ساتھ، بنایا گیا تھا۔
ان گرفتاریوں کے منصوبوں کو شاہی کورٹ میں ایم بی ایس کی قریبی قیدیوں کی طرف سے احتیاط سے بنایا گیا تھا۔ ایم بی ایس ریٹزکارلٹن والی بغاوت کا ہدف بننے والوں میں سرفہرست مرحوم بادشاہ کا پرعزم بیٹا "ترکی بن عبداللہ" شامل تھا جس نے قبل ازیں اپنے امریکی اور چینی رابطوں کو ایم بی ایس کے غیر متوقعہ فیصلوں کی نسبت اپنی تشویش سے آگاہ کیا تھا۔ ترکی ابھی تک اسیری کی زندگی گذارنے پر مجبور ہے اور اس کا اعلی فوجی ساتھی میجر جنرل علی القحطانی ـ گذشتہ سال گرفتار ہونے کے بعد ـ ریٹزکارلٹن میں حراست کے دوران [تشدد کی تاب نہ لا کر] چل بسا ہے۔
جانشینی کی جنگ
قصر شاہی کا فتنہ جنوری 2015ع‍کے آغاز میں، اس وقت شروع ہوا جب بادشاہ عبداللہ ـ جس کو 2014ع‍میں پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا قرار دیا گیا تھا ـ کی حالت نازک اور طبی لحاظ سے بد سے بد تر ہوئی۔ ریاض کے شمال مشرق میں 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع "روضة خريم" میں واقع اس کی خصوصی خلوتگاہ سے فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے، ریاض کے نیشنل گارڈز اسپتال کے وی آئی پی ونگ میں منتقل کیا گیا، جو اس وقت بادشاہ کے بیٹوں اور دربار کے حامیوں کے محاصرے میں تھا۔ جب بادشاہ کومے میں چلا گیا، شاہی دربار نے اس کے مرض الموت کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی کیونکہ وہ جانشینی کے امکانات پر غور کررہے تھے جن میں عبداللہ کے بیٹے اور نیشنل گارڈ کے سربراہ متعب بن عبداللہ کی جانشینی کا امکان بھی شامل تھا، اور وہ سوچ رہے تھے کہ گویا متعب بھی بادشاہ بن سکتا ہے!
اس وقت کا ولیعہد سلمان 23 جنوری کو اسپتال پہنچا تو پوچھنے لگا: "میرا بھائی کہاں ہے؟"، تو شاہی دربار کے سربراہ اور عبداللہ کے خاندانی فنڈز کے سرپرست خالد التویجری نے جواب دیا کہ "عبداللہ آرام کررہا ہے"۔ حقیقت یہ ہے کہ ـ جیسا کہ نام خفیہ رکھنے کی شرط پر واقعے کی معلومات دینے والے سعودی شہری نے بتایا ـ عبداللہ پہلے ہی مر چکا تھا۔ جب سلمان کو حقیقت کا پتہ چلا تو وہ آگ بگولا ہوگیا اور اسپتال کی راہداریاں طمانچوں کی آواز سے گونج اٹھیں، نیا بادشاہ اب کے سابق سربراہ دربار کو تھپڑ رسید کررہا تھا۔ التویجری بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہیں نومبر 2017ع‍میں گرفتار کیا گیا تھا، اور اس وقت وہ، بادشاہ عبداللہ کے دور میں غیر قانونی طور پر جمع کردہ دولت کے انبار بن سلمان کے سپرد کرنے کے بعد ـ سعودی ذرائع کے مطابق ـ اپنے گھر میں نظر بند ہے۔
شاہ عبداللہ کے خاندان کے مشیر اور سعودی تاجر طارق عبید کے بقول "التویجری عبداللہ کے بیٹوں کے لئے بہت نقصان دہ تھا"۔
جانشینی کی جنگ نمایاں ہونے کے بعد سے، شاہی خاندان کے اراکین ایک دوسری کی جاسوسی کررہے تھے۔ عبداللہ کا ایک بیٹا بہت سے سینیئر شہزادوں کے ٹیلی فون سنتا تھا۔ عبداللہ کی شاخ نے ایک چینی ساختہ آلہ خرید لیا تھا جس کے ذریعے ایک سو گز کے فاصلے تک خفیہ طور پر، تمام موبائل سیٹس کے شناختی نمبرز معلوم کیا جاسکتا تھا اور یوں جاسوسی کے لئے موبائل سیٹوں تک براہ راست رسائی کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔
تمام شاہی محلات میں راکھ دانیوں (Ashtrays) اور دوسری اشیاء میں جاسوسی کے آلات نصب کئے گئے تھے تا کہ کسی بھی سیاسی سازش کا بروقت سد باب کیا جاسکے۔
سعود القحطانی، ـ جو ایک لالچی درباری ہے ـ جس نے ان ابتدائی مہینوں میں سلمان اور اس کے بیٹے کی طاقت کو تقویت پہنچائی؛ ایک قانوندان اور فضائیہ کا سابق کارکن ہے جو ہیکنگ اور سماجی ابلاغیات (سوشل میڈیا) کا شوقین ہے۔ سلمان کیمپ کو ابتداء میں اس پر شک تھا کیونکہ وہ شاہی دربار میں التویجری کا معاون رہا تھا اور سنہ 2000ع‍سے دربار سے وابستہ تھا۔ دربار کے اندر کام کرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ القحطانی کو سلمان کے بادشاہ بننے کے پہلے دنوں میں حراست میں لیا گیا اور خوب مارا پیٹا گیا لیکن اس نے بہت جلد  ـ سزا پا کر ـ ایم بی ایس کو اپنی وفاداری جتا دی۔
القحطانی نے شاہی دربار کے مرکز برائے مطالعہ و ابلاغی معاملات، کے ڈائریکٹر کے طور پر، ایم بی ایس کے شک کو ـ ممکنہ حریفوں اور بغاوت کی سازش بنانے والوں کے حوالے سے تقویت پہنچائی۔ القحطانی نے ایم بی ایس کی طرف سے سائبر ہتھیار جمع کرنا شروع کئے۔ جون 2015ع‍میں اس نے "ہیکنگ ٹیم" کہلوانے والے اٹلی کے ایک پراسرار گروپ کو پیغام دیا کہ "سعودی شاہی دربار آپ کے ساتھ تعمیری تعاون کا سلسلہ شروع کرنا چاہتا ہے اور ہم آپ کے ساتھ طویل المدت تزویری شراکت داری کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔
سعودی اور امریکی تفتیش کار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ القحطانی نے ـ ایم بی ایس کی معلومات سے متعلق کاروائیوں کے کمانڈر کے طور پر ـ خاشقجی کے قتل کے منصوبے کو منظم کرنے میں مدد دی۔ ایم بی ایس صرف 29 برس کا تھا جب اس کو وزیر دفاع کا عہدہ سونپا گیا۔
خاندانی سیاست
شاہ سلمان کی ٹیم نے نے اپنی اس کی بادشاہت کے پہلے ہفتے سے ہی شدید اور کانٹے دار خاندانی سیاست کا آغاز کیا۔ جنوری 2015ع‍کے آخر میں ایک شاہی فرمان کے ذریعے ریاض کے گورنر ترکی بن عبداللہ اور مکہ کے گورنر مشعل بن عبداللہ کو یکے بعد دیگرے ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا۔ ان دو افراد کی برطرفی ایسے داغ کا باعث ہوئی جو کبھی مندمل نہیں ہوسکا۔ سابق طاقتور وزیر داخلہ نائف بن عبدالعزیز کے نرم مزاج بیٹے اور سی آئی کے پسندیدہ شخص محمد بن نائف کو نائب ولیعہد مقرر کیا گیا۔ جبکہ سابق سعودی انٹیلیجنس کے سابف سربراہ مقرن بن عبدالعزیز کو ولیعہد مقرر کیا گیا تھا۔ اپریل 2015ع‍میں سلمان اور اس کے بیٹے نے اپنے کنٹرول کو مزید مستحکم کرتے ہوئے، ولیعہد مقرن کو ڈھیر کرکے محمد بن نائف کو ولیعہد بنایا (اور جیسا تحائف کی منتقلی کے عمل سے وابستہ ایک سعودی اہلکار نے بتایا: سلمان نے ایک سال بعد وداعی تحائف کے طور پر ایک 280 فٹ طویل پر تعیش کشتی [Solandge yacht] اور بہت ساری دوسری رعایتیں دیں [اور 2017 میں اس کو عسیر صوبے کا نائب گورنر بھی بنایا]) ایم بی ایس نائب ولیعہد کے عہدے پر فائز اور باضابطہ طور پر جانشینی کی قطار میں شامل ہوا۔
اگرچہ 30 سال سے کم عمر کا ایم بی ایس پہلے ہی عیار اور ماکیاولی کی سوچ کا حامل شہزادہ بن چکا تھا، تاہم اماراتی نائب ولیعہد محمد بن زائد اور امارات انٹیلیجنس کے اعلی اہلکار طحنون بن زائد ـ جو اس کی ولیعہدے کے پہلے برس کے دوران ہفتے کے آخری ایام کے دوران ایک تفریحی کشتی پر اس کی ملاقات کو آتے رہتے تھے ـ اس کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ ایم بی ایس اس سے پہلے بھی ریاض میں ایک جلدباز اور لاپروا شخص کے طور پر مشہور ہوچکا تھا، جس نے اپنی کم عمری میں اراضی کے رجسٹریشن دفتر کے اہلکار کو دھمکا دیا تھا جس نے اس نوجوان شہزادے کو جائیداد کی منتقلی پر پابندی لگائی تھی۔ نوجوان شہزادے نے ایک "گولی" بھجوا کر اس اہلکار کو خبردار کرنا چاہا تھا۔
ایم بی ایس نے اپنی سلطنت کو جدید بنانے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن اس دوران بھی وہ اپنے رقیبوں کی نسبت نفسیاتی الجھن اور مالیخولیا میں مبتلا ہوکر انہیں شک کی نگاہ سے دیکھنا شروع کیا جن میں سابق بادشاہ عبداللہ کے بیٹے نیز محمد بن نائف شامل تھے اور ان کے بعد قابو میں نہ آنے والا صحافی خاشقجی بھی اس کے خیال میں، ان رقیبوں میں شامل ہوا۔
ستمبر 2015ع‍میں دو انتباہی نشانیوں کو مبصرین کی ہوشیاری کا باعث ہونا چاہئے تھا: ایک یہ ہے ـ جو 30 سالہ شہزادہ ایم بی ایس [جیسا کہ میں نے 28 جون 2016ع‍کو واشنگٹن پوسٹ میں لکھا کہ] سلطنت کی طرف چھلانگ لگا سکتا ہے یا اسے اونچائی سے گرا سکتا ہے۔ سعودی عرب میں امریکی سفیر "جوزف ویسٹ فال" (Joseph Westphal) نے اس مہینے میں محمد بن نائف سے ملنے کی غرض سے جدہ کا دورہ کیا لیکن اس کو ہوائی اڈے ہی سے واپس کرکے ایم بی ایس کی ملاقات کے لئے بھیجوایا گیا ـ ایک غیر معمولی تجویز، یہ جتانے کے لئے کہ "حقیقی رئیس کون ہے؟"۔ اسی مہینے، طویل عرصے سے سعودی انٹیلیجنس کے اہلکار، سعود الجبری نے اس وقت کے سی آئی کے ڈائریکٹر جان برینان (John Brennan) سے ملنے کے لئے واشنگٹن کا خصوصی دورہ کیا۔ الجبری محمد بن نائف کا قریبی مشیر تھا اور اس نے ایم بی ایس کو اپنے دورے کے بارے میں کچھ نہيں بتایا تھا؛ چنانچہ اس کو وطن واپسی پر برطرف کیا گیا اور اب وہ جلاوطنی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہے۔ شاہ عبداللہ خاندان کے افراد دیکھ رہے تھے کہ ایم بی ایس طاقت و اقتدار کے تمام وسائل ـ جو قبل ازیں ان کے ہاتھ میں تھے ـ پر قبضہ کررہا ہے۔ ان مسائل کو جانتے ہوئے جان برینن اور اوباما انتظامیہ کے دوسرے اراکین ایم بی ایس کے سلسلے میں فکرمند تھے، عبداللہ کے کئی بیٹوں کو واشنگٹن کے ایک معروف تزویری مشاورتی ادارے نے بھرتی کرلیا تا کہ امریکی ـ سعودی تعلقات کے نئے محرکات کے سلسلے میں معلومات حاصل کرسکے۔
ایم بی ایس شاید تصور کرتا کہ یہ بیٹھکیں شدت کے ساتھ ایک خفیہ منصوبہ ہوسکتی ہیں۔ ترکی بن عبداللہ اور اس کا سب سے قریبی مشیر اور سعودی تاجر طارق عبید نے جارج ٹاؤن (Georgetown) کے فور سیزنز ہوٹل (Four Seasons Hotel) میں متعدد سابق سی آئی اہلکاروں اور وزارت خارجہ کے سابق عہدیداروں کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ سابق بادشاہ عبداللہ کا عسکری مشیر اور ترکی سمیت اس کے بیٹوں کا محافظ میجر جنرل علی القحطانی بھی ان کا ساتھ دے رہا تھا--- وہی شخص جو اگلے سال ریٹز کارلٹن ہوٹل میں حراست کے بعد مارا گیا۔
میں بھی اس ہوٹل میں ایک گروپ سے ملا، تاکہ میں اس خاکے کے لئے کچھ معلومات حاصل کرسکوں جو میں ایم بی ایس کے بارے میں لکھ رہا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ترکی بن عبداللہ اپنے خیالات کا احتیاط سے اظہار کررہا تھا۔ اس نے سعودی پالیسیوں میں مزید توازن کی ضرورت پر زور دیا، لیکن اس نے سعودی حکمرانی میں تبدیلی کے لئے کوئی تجویز نہیں دی۔
عبید نے اپنے ایک انٹرویو میں ترکی بن عبداللہ کے 2016ع‍کے واشنگٹن والے رابطوں کو کچھ یوں بیان کیا: "اجلاسوں کے اس دور کا مقصد ـ امریکہ کے باخبر قومی اور سیکورٹی اہلکاروں کے ذریعے ـ یہ معلوم کرنا تھا کہ سعودی بادشاہی کے سلسلے میں امریکی حکام کا تزویری نقطۂ نظر نیز ان کا موقف کیا ہے"۔  
ایم بی ایس اس کے ایک مہینے بعد صدر بارک اوباما اور دوسرے حکام سے ملنے کی غرض سے جون 2016ع‍میں واشنگٹن پہنچا۔ اس وقت تک امریکی انتظامیہ ـ شاہی خاندان کے اندر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود ـ حتی کہ وہ ولیعہد محمد بن نائف اور نائب ولیعہد ایم بی ایس کے درمیان تصادم کے سلسلے میں، غیر جانبدار تھی۔ تاہم اوباما اس نقطہ نظر اور توانائی سے متاثر ہوا جو جو ایم بی ایس اپنے اصلاحاتی ایجنڈے کے سلسلے میں لایا تھاجنبی کو لایا، اور اس جون کے دورے کے بعد، امریکہ نے اس جذباتی "مصلح" کی طرف جھک گیا۔
طاقت کی جنگ میں الجھاؤ
عبداللہ کے خاندان کے ـ بالخصوص ایشیا میں ـ کچھ اہم رابطے تھے، وہی رابطے جو بہت تیزی سے ایم بی ایس کے ایجنڈے کے ساتھ الجھ گئے۔
عبید نے جولائی 2016ع‍میں شنگھائی کا دورہ کیا تا کہ اسی سال ماہ ستمبر میں ـ ہانگ ژو (Hong Zhu) میں منعقد ہونے والے گروپ 20 کے اجلاس سے چند روز قبل ـ منعقد ہونے والے بین الاقوامی مالیاتی فورم کے اجلاس میں ترکی بن عبداللہ کی شرکت کی تیاری کرسکے۔ ایم بی ایس کو گروپ 20 کے اجلاس میں شرکت کرنا تھی چنانچہ ترکی بن عبداللہ کا منصوبہ یہ تھا کہ بین الاقوامی مالیاتی فورم میں شرکت کرکے خاندان کے اندر کی رقابتوں کو دنیا پر واضح کردے۔ عبید نے بند کے علاقے میں واقع پیننسولا شنگھائی ہوٹل (The Peninsula Shanghai Hotel) میں ایک سوئیٹ لے لیا تھا اور ساتھ والے کمرے میں میجر جنرل علی القحطانی مقیم تھا۔ اور پھر چیزیں عجیب بننا شروع ہوئیں۔ واقعات کے اس سلسلے کو کئی سعودی، سوئس اور امریکی ذرائع نے بیان کیا ہے۔
عبید ایک اہم کاروباری قسمت آزمائی میں ترکی بن عبداللہ کا ایلچی تھا۔ ترکی شاہراہ ریشم مالیاتی کارپوریشن (Silk Road Finance Corp. [SRFC]) نامی ترقیاتی فنڈ میں کم از ایک کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس کارپوریشن کا سربراہ ـ متعلقہ ویب گاہ کے مطابق ـ "شان لی" ایم آئی ٹی (Massachusetts Institute of Technology [MIT]) کا فارغ التحصیل تھا۔ شاہراہ ریشم کے اس سلسلے کی چوٹی کی چینی شخصیت کا نام "چان یوان" تھا، جو بہت سینئر راہنما تھا اور اس سے پہلے 1998ع‍سے 2013ع‍تک چائنہ ڈیویلپمنٹ بینک کا سربراہ رہ چکا تھا اور اس کا باپ ـ جیسا کہ رپورٹوں سے معلوم ہوا ہے ـ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بانیوں میں سے تھا۔
عبید اگست 2016ع‍کے آغاز میں ترکی بن عبداللہ کی سرمایہ کاری کے سلسلے میں بات چیت کے لئے بیجنگ پہنچا، تو غالبا اس کو شاندار پارک ہائٹ ہوٹل (Park Hyatt hotel) میں ایک بڑے تقابل کا سامنا تھا۔ اس کو شاہراہ ریشم کے مالیاتی ادارے کے سربراہ "جان تھورنٹن" (John Thornton) نے رات کا کھانا ساتھ کھانے کی دعوت دی جہاں لی بھی ہوگا۔ تھورنٹن نے نیویارک کے ایک بینکر "مائیکل کلین" (Michael Klein) کو بھی کھانے پر بلایا تھا۔ اور کلین وہ شخص تھا جس کے بارے میں مشہور تھا کہ "وہ آرامکو تیل کمپنی کے کچھ حصص فروخت کرنے کے عوض  100 ارب ڈالر سرمایہ جمع کرنے کے سلسلے میں محمد بن سلمان کا قریبی مشیر ہے"--- آرامکو کے حصص کی فروخت سے ممکنہ 100 ارب ڈالر سرمایہ جمع کرنے کا منصوبہ، تیل کی قیمتیں گرنے کی وجہ سے سعودی بجٹ کو درپیش خسارے سے نمٹنے کے لئے بنایا گیا تھا۔ (گوکہ کلین نے اس کام کو مکمل نہیں کیا اور یہ مشن دوسرے بینکاروں کو سپرد کیا گيا۔) تھورنٹن اور کلین کی ترجمان کے مطابق، کلین نے عبید کے ساتھ مختصر ملاقات کی اور ہوٹل سے چلا گیا۔
ہائٹ ہوٹل میں ہونے والی ملاقات کے دوران عبید نے خبردار کیا کہ مغرب میں رائج معیاروں کی بنیاد پر آرامکو کی نیلامی سعودی عرب کی قومی سلامتی پر ناخوشگوار اثرات مرتب کرسکتی ہے؛ کیونکہ یہ اقتدار پر سعودی خاندان کی گرفت کو کمزور کردیتی ہے، جبکہ آرامکو کمپنی عرصہ دراز سے سعودی بادشاہی انتظام کے ستون کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ عبید نے کہا کہ اس کے بجائے، چین کو امریکی محکمہ خزانہ کے بانڈز کے کچھ حصے کو مبادلۂ اجناس (barter) کے طور پر سعودی تیل کے بدلے ادا کرنا چاہئے۔
عبید نے در حقیقت چینی سرمایہ کار گروپ کی موجودگی میں ایم بی ایس کی نجکاری مہم پر تنقید کرتے ہوئے چینیوں سے کہا تھا کہ روایتی سعودی نظام کی حمایت کریں، وہی روایتی نظام جس نے عبداللہ بن عبدالعزیز اور سابقہ بادشاہوں کی زعامت کے تحت امن و استحکام کا تحقظ کیا تھا۔
ادھر کلین نے اپنے ایک ترجمان کے ذریعے بیان کیا کہ عبید کے ساتھ مختصر بات چیت کے دوران اس نے تیل کی بارٹر ڈیل یا آرامکو کی نجکاری کے سلسلے میں کوئی بات نہیں کی تھی۔ تھورنٹن کو بھی یاد ہے کہ عبید نے تیل کی بارٹر ڈیل کی تحویز دی تھی لیکن اس کو یہ یاد نہیں ہے کہ وہاں کون لوگ موجود تھے۔ تھورنٹن نے ایک ٹیلی فون انٹرویو کے دوران کہا: "میں نے اس حوالے سے ایک سنجیدہ خیال کے عنوان سے کوئی نئی بات نہیں کی"۔ شاہراہ ریشم کے ایک انتظامی اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ ترکی اور عبید شاہراہ ریشم سے متعلقہ کارپوریشن کے سرمایہ کاروں میں شامل نہیں تھے۔
شاید ایم بی ایس کی نجکاری کے منصوبے پر عبداللہ کی شاخ کے اصلی تجارتی مشیر کی تنقید ریاض تک پہنچ چکی ہو۔ ایک ہفتہ یا کچھ زیادہ دن گذرنے کے بعد عبید کو سعودی نمبروں سے رابطوں کی گولہ باری شروع ہوئی۔ عبید انہیں نہیں جانتا تھا چنانچہ اس نے کسی بھی فون کا جواب نہیں دیا۔ آخرکار عبید کو سعودی انٹیلیجنس کے سربراہ خالد الحمیدان کا فون موصول ہوا اور اس نے عبید سے کہا: "شاہی دربار کہتا ہے کہ فورا سعودی عرب واپس آجاؤ۔ عبید نے کہا: "میں پہلے اپنے رئیس شہزادہ ترکی بن عبداللہ سے اس سلسلے میں پوچھوں گا کہ میری ذمہ داری کیا ہے"۔
ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ اس کے بعد ترکی بن عبداللہ نے خالد الحمیدان سے رابطہ کیا اور پوچھا: "کیا بادشاہ سلمان نے ذاتی طور پر حکم دیا ہے کہ عبید سعودی عرب واپس آجائے؛ اگر ایسا ہے میں ذاتی طور پر اسی وقت طارق عبید کو طیارے میں بٹھا کر واپس بھیج دیتا ہوں"، لیکن حقیقت میں الحمیدان نے صرف کہا تھا کہ یہ درخواست "دربار" کی طرف سے ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ترکی نے عبید سے کہا کہ چین ہی میں رہے۔
مورخہ 21 اگست کو "لی" نے عبید کو شاہراہ ریشم کارپوریشن کے لئے ایک دفتر کا معائنہ کرنے کے لئے بیجگ بلایا۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ یہ دفتر گویا شہر کے مرکز میں واقع ہوا ہے۔ یہ ایک شاندار اور پررونق علاقہ ہے اور دفتر اسی عمارت میں ہے جہاں ہائٹ ہوٹل واقع ہوا ہے۔ لی کہتا ہے کہ عبید اس سفر کے دوران شاہراہ ریشم کے منصوبے کے گاڈفادر "چن" سے مل سکتا تھا۔ مورخہ 25 اگست کو عبید اپنے ذاتی طیارے میں بیٹھ کر شنگھائی سے بیجنگ چلا گیا۔ طیارہ اترا تو ہوائی اڈے کے ایک دور افتادہ گوشے میں ایک دوسرے طیارے کے پہلو میں پارک کرایا گیا جس کے دم پر لکھا ہوا تھا "HZ-ATR"۔ سابقہ "ایچ زیڈ" سے معلوم ہو رہا تھا کہ یہ طیارہ بھی سعودی عرب کا ہے۔ جو کچھ اس کے بعد رونما ہوا وہ باخبر سعودی اور سوئس ذرائع نے بتایا جنہیں اس حوالے سے بریف کیا گیا تھا۔
عبید طیارے سے اترا تو اس کو سفید کپڑوں میں ملبوس چینی سیکورٹی اہلکاروں نے روک لیا۔ سیکورٹی گروپ کے کمانڈر نے عربی زبان میں عبید سے کہا: "ہم ریاستی سلامتی کے وزارت خانے کے اہلکار ہیں، "کیا آپ تم ہمارے ساتھ تعاون کرو گے؟"۔ عبید ہار مان گیا۔ ان کے سر اور جسم کو تھیلے میں کچھ اس طرح سے کس دیا گیا کہ نہ کچھ دیکھ سکتا تھا اور نہ ہی کسی کی مدد کے بغیر ہل جل سکتا تھا۔ اس کو بیجنگ میں ایک تفتیشی کمرے میں منتقل کیا گیا اور اسے ہتھکھڑیوں کے ذریعے ایک کرسی سے باندھ لیا گیا۔
ایک چینی سیکورٹی افسر نے عبید پر الزام لگایا کہ وہ دہشت گردوں کا مالی معاون ہے، اور "پاکستانی دہشت گردوں" کے ذریعے ایک سازش کا انتظام کررہا ہے اور اس کا مقصد اگلے مہینے منعقد جی 20 سمّٹ میں خلل ڈالنا ہے۔ چینی افسر نے عبید سے پوچھا: "تم نے اپنے دہشت گردوں کو کہاں چھپا رکھا ہے؟ کہاں چھپایا ہے تم نے پاکستانی دہشت گردوں کو، بتاؤ"۔ عبید نے احتجاج کیا اور کہا: "آپ کس چیز کے بارے میں بات کررہے ہیں؟ آپ نے مجھے کوئی اور سمجھ کر پکڑ لیا ہے"۔ عبید کی تفتیش بہت طویل اور تکلیف دہ تھی۔
عبید کی خوش قسمتی یہ رہی کہ چین کے سیکورٹی ماہرین نے اس کے آئی پیڈ اور موبائل کا معائنہ کیا اور آئی پیڈ اور موبائل سے حاصل ہونے والی معلومات کی اپنے ذرائع سے جانچ پڑتال کرائی، اور وہ بہت تیزی سے اس نتیجے پر پہنچے کہ ایک بڑی غلطی ہوگئی ہے۔ اور یہ سعودی ذرائع تھے جنہوں نے چینی حکام کو غلط معلومات دی تھیں اور سعودی حکام نے [چین سے ایک مشہور سعودی شہری کو اغوا کرنے کی اپنی سی کوشش کرتے ہوئے] عبید کو گرفتار کروانے اور سعودی عرب واپس بھجوانے کا انتظام کیا تھا۔
ایک باخبر ذریعے کے مطابق، ایک اعلی چینی سیکورٹی اہلکار نے عبید سے کہا" "دیکھئے، ایک غلطی ہوئی ہے اور کسی نے آپ کے ملک سے، آپ کا طیارہ اترنے سے پانچ منٹ پہلے، ہمیں بتایا کہ آپ دہشت گردی کی مالی معاونت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جی 20 کے اجلاس پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ "آپ اپنے ملک کو دو طاقتور شہزادوں کے درمیان کی اقتدار کی جنگ میں پھنس گئے ہیں"۔
چینی انٹیلیجنس افسر کافی غضبناک تھے کہ انہیں دھوکا دیا گیا تھا۔ انھوں نے فوری طور پر عبید کی شنگھائی واپسی کا انتظام کیا اور شنگھائی میں قیام کے دوران اس کو پوری سیکورٹی فراہم کردی۔
دریں اثناء، سعودی، جنہیں توقع تھی کہ وہ عبید کو بیجنگ سے اغوا کرسکیں گے، غضبناک تھے اور سمجھ رہے تھے کہ ان شکار ان کے ہاتھ سے پھسل چکا تھا۔ انھوں نے اپنے گماشتے روانہ کئے کہ بیجنگ کے ہوٹلوں کو چھان ماریں، اور عبداللہ کی شاخ کے کارگزار کا سراغ لگائیں۔ عبید جب شنگھائی میں تھا تو سودی انٹیلیجنس کے نائب سربراہ جنرل "یوسف بن علی الادریسی" نے اس سے فون پر رابطہ کیا اور کہا: جہاز میں بیٹھ کر بیجنگ چلے جاؤ اور سعودی جہاز میں ـ جو تمہاری واپسی کے لئے بھجوایا گیا ہے ـ بیٹھ کر سعودی عرب واپس آؤ۔ عبید نے ایک بار پھر ترکی بن عبداللہ سے رابطہ کیا اور ترکی نے الادریسی سے رابطہ کیا اور کہا: "اگر بادشاہ نے کہا ہے کہ عبید کو سعودی عرب واپس آنا چاہئے، تو یہ کام انجام پائے گا لیکن تم بتاؤ کہ کس کی ترجمانی کررہے ہو؟ ادریسی نے ـ اس شخص کے بارے میں، جس نے عبید کی جبری واپسی کا حکم دیا تھا، مبہم سا جواب دیا۔ عبید ایک ہفتہ مزید، چینی ریاستی سلامتی کی وزارت کی کڑی حفاظتی نگرانی کے تحت، شنگھائی میں مقیم رہا۔
عبید کے پاس سوئس پاسپورٹ تھا اور اسی بنا پر شنگھائی میں واقع سوئس قونصلیٹ کی حمایت سے بھی بہرہ ور تھا۔ شنگھائی میں مقیم سوئس قونصل جنرل "فرانسوا کیلیاس زیلویگر" (Françoise Killias Zillweger) نے 11 جنوری 2017ع‍کو، ایک خط طارق عبید کے وکیل کو خط لکھا جس میں اس موضوع کی تصدیق ہوئی ہے۔ قونصل جنرل لکھتا ہے: "جناب طارق عبید کی حفاظت کی ذمہ داری کے موضوع کے بارے میں، میں تائید کرسکتا ہوں کہ اس قونصلیٹ نے قونصلر تحفظ سے متعلق خدمات ان کے لئے فراہم کردیں"۔
ترکی بن عبداللہ 30 اگست کو چین پہنچا، اور یکم ستمبر کو بین الاقوامی مالیاتی فرم کے اجلاس سے خطاب کیا اور صدر  ژی جین پنگ (Xi Jinping) کے ساتھ تصویر بنوائی جو نشر ہوئی۔ ایم بی ایس نے 4 اور 5 ستمبر کو جی 20 کے اجلاس میں شرکت کی جو ہانگ ژو (Hong Zhu) میں منعقد ہوا جبکہ اسی وقت عبید ترکی بن عبداللہ کے ذاتی ائیربس طیارے میں سویٹزلینڈ کی طرف محو پرواز تھا۔ چینی حکام نے عبید کے بحفاظت جنیوا پہنچنے کو یقینی بنانے کے لئے اس کے سفر کی نگرانی کی تھی۔ سوئس ذریعے کے مطابق، سوئٹزرلینڈ پہنچتے ہی عبید نے ایک خصوصی کلینک میں ان چوٹوں کا علاج کرایا۔
ایک شرمناک ناکامی
ایم بی ایس نے جی 20 کے اجلاس میں سعودی ویژن 2030 کے جدت پسندانہ منصوبے کی وضاحت کی لیکن باخبر ذرائع کے مطابق، وہ نجی بیٹھکوں میں بہت زیادہ پریشان نظر آیا جب اس کو معلوم ہوا کہ جنرل ادریسی کا انتقامی منصوبہ شرمناک ناکامی سے دوچار ہوچکا ہے۔ ایم بی ایس سعودی عرب واپس پہنچا تو اس نے اس موضوع کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیا اور الادریسی کو نائب سربراہی کے عہدے سے ہٹا کر "احمد العسیری" کو اس کی جگہ انٹیلیجنس کا نائب سربراہ بنایا۔ العسیری وہی شخص تھا [جو کسی وقت یمن پر ظآلمانہ سعودی جنگ کا ترجمان رہا اور سعودی افواج کی جگ ہنسائی کا سبب بنتا رہا تھا] اور خاشقجی کے قتل کے بعد انٹیلیجنس کی نائب سربراہی سے بھی ہٹایا گیا۔ سعودی حکومت نے ایک خصوصی وفد چین بھجوایا اور عبید کے مسئلے میں انٹیلیجنس ذرائع کے غلط استعمال کے پیش نظر چینی حکومت سے معافی مانگ لی۔
ایم بی ایس کے ایک قریبی سعودی اہلکار نے ایک خصوصی بیٹھک میں اپنے ایک سعودی ہم وطن سے سعودی حکومت کی ناراضگی اور جھنجھلاہٹ کا یوں اظہار کیا ہے: "وہ الادریسی کی غلطی پر برہم تھے۔ میرا مطلب ہے کہ سعودی عرب حتی کہ اس برتاؤ کی وجہ سے جھنجھلاہٹ کا شکار تھا ۔۔۔ ادریسی نے ایک غلطی کا ارتکاب کیا۔ اس کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھے۔ عبید نے اپنے اوپر لگے الزام "کہ وہ دہشت گرد ہے" کے بارے میں کہا: "یہاں نا اہل ٹھگوں نے واضح طور پر طاقت کا غلط استعمال کیا ہے۔ گوکہ مجھے یقین نہیں ہے کہ ان واقعات کے لئے ولیعہد نے کوئی حکم دیا ہوگا!!!"
لیکن ایم بی ایس کے شاہی عدالت نے واضح طور پر سبق نہیں سیکھا۔ حتمی کنٹرول کے حصول کی غرض سے تصوراتی دشمنوں کا شبہہ مزید گہرا ہوگیا۔ باخبر امریکی اور سعودی ماہرین کے مطابق، سعودیوں نے بہار سنہ 2017ع‍سے مخالفین کے اغوا اور انہیں خفیہ مقامات پر رکھنے کا خفیہ منصوبہ شروع ہوا۔ اس منصوبے میں ایک خصوصی "ٹائیگر ٹیم" کو بھی شامل کیا گیا جو شاہی دربار کے مطالعات اور ابلاغیات امور کے دفتر کے زیر انتظام تھی جس کا سربراہ سعود القحطانی تھا۔ امریکی اور سعودی ماہرین کے مطابق، ایم بی ایس کے ایک اور قریبی مشیر "ترکی آل الشیخ" نے ان خفیہ مقامات کی نگرانی میں مدد بہم پہنچائی۔
سعود القحطانی ایم بی ایس کا مشیر
ایم بی ایس نے اندرونی بغاوت کا منصوبہ گذشتہ سال اس وقت بنایا جب وہ اس خوف میں مبتلا ہوا کہ اس کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ جون 2017ع‍میں ولیعہد شہزادہ محمد بن نائف کو نہایت ذلت آمیز انداز سے برخاست کیا گیا اور ایم بی ایس کو اس کی جگہ بٹھایا گیا۔ نومبر 2017ع‍میں، کوشنر کے دورہ ریاض کے ایک ہفتے بعد، اس نے اپنے شاہی مخالفین کو گرفتار کرلیا۔ حراستوں کا یہ سلسلہ ترکی بن عبداللہ کی گرفتاری سے شروع ہوا؛ اور گرفتار افراد کو ریٹزکارلٹن میں کے "ذخیرہ" کیا گیا۔
ریٹز کارلٹن ہول [یا لکژری قیدخانے] کے قیدیوں میں بادشاہت کے سینئر شہزادے اور عام لوگ شامل تھے۔ ریٹز کارلٹن ہوٹل نے ہوٹل کے طور پر اپنے کاروبار کا آغاز کیا تو قیدیوں کو خفیہ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
مئی 2018ع‍میں متعدد انسانی حقوق کی خاتون کارکنوں کو ـ ایم بی ایس کے عورتوں کی ڈرائیونگ سے پابندی اٹھانے کے ایک مہینے بعد ـ گرفتار کرلیا۔ ایم بی ایس کے بعض ناقدین کہتے ہیں کہ اس نے خاتون کارکنوں کو گرفتار کیا کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی مطلوبہ اصلاحات کا سہرا ان خواتین کے سر بندھ جائے۔ ہیومین رائٹس واچ کے قریبی ذریعے کے مطابق خاتون کارکنوں کے ساتھ بدسلوکی اس قدر شدید تھی کہ ان میں سے ایک نے اپنی کلائیاں کاٹ کر خودکشی کی کوشش کی ہے۔
عبید سویٹزرلینڈ میں مقیم ہے۔ اس کو ـ ملائیشیا خودمختار امدادی فنڈ [یا 1Malaysia Development Berhad (1MDB) یا The Malaysian sovereign wealth fund] سے پیٹرو سعودی انٹرنیشنل کہلانے والی کمپنی کو غیر قانونی ادائیگیوں کے الزام میں ـ سویٹزرلینڈ اور امریکہ کی طرف سے زیر تفتیش رکھا گیا ہے۔ اس کمپنی کی بنیاد ترکی بن عبداللہ اور عبید نے رکھی تھی۔ تاہم عبید پر کسی غلط کام کا الزام نہیں لگا ہے۔
سفاکانہ مالیخولیا
جو کچھ سعودی بادشاہی میں خاندانی کشیدگیوں اور رقابتوں کی داستان میں ناقابل انکار اور ناقابل فراموشی ہے، یہ ہے کہ اس طرح کی رقابت بدگمانی اور مالیخولیا (Paranoia) کا سبب بن جاتی ہے جو خاشقجی کے قتل پر منتج ہوئی۔
کیوں کسی نے بھی خطاؤں کے اس ہلاکت خیز تسلسل کا راستہ نہیں روکا؟ چین میں طارق عبید کی جبری ملک واپسی کی ناکام کوشش، خوفناک حد تک استنبول میں خاشقجی کے قتل سے شباہت رکھتی تھی۔ ان دونوں واقعات میں بنی سعود کی کوشش تھی کہ ایک معترض شخص کو خاموش کروا دیں۔ جب ابتدائی رابطے ناکام ہوئے، سعودیوں نے خفیہ اور غیرقانونی کاروائی کا سہارا لیا۔ ان دونوں واقعات میں کاروائی کے احکامات سعودی انٹیلیجنس کا نائب سربراہ دے رہا تھا؛ جو کہ دربار شاہی سے قریبی رابطے میں تھا۔ دونوں واقعات میں انٹیلی جنس کا نائب سربراہ قربانی کا بکرا بنا، ملزم ٹہرا اور کوئی بھی ٹھوس ثبوت ایسا نہ مل سکا جو ثابت کرے کہ ان واقعات میں ایم بی ایس ملوث تھا۔
ان دونوں کاروائیوں میں نظر یہی آرہا ہے کہ ان کا انتظام شاہی دربار کے اندر کے ایک خصوصی مرکزے نے کر رکھا تھا؛ وہ دربار جہاں القطحانی اعلی منتظم تھا، چنانچہ ان کاروائیوں کی کمان انٹیلیجنس ادارے کے ہاتھ میں تھی ہی نہیں۔ اس سلسلے میں امریکی اہلکاروں کو بھی یقین ہے جو الحمیدان اور اس کے رفیق کار اور اندرون ملک انٹیلیجنس کے سربراہ "عبد العزيز بن محمد الہویرینی" کو ان سازشوں کو تقویت پہنچانے والی قوت کے طور پر دیکھتے ہیں۔
شاید ان دو واقعات میں سب سے بڑا فرق یہی ہے کہ عبید زندہ ہے اور جنیوا کے نواح میں رہائش پذیر ہے جبکہ خاشقجی کو مارا گیا ہے، اس کے بدن کا مُثلہ کیا گیا ہے کوئی بھی نہیں جانتا کہ اس کی لاش کہاں ہے۔
سعودی وکیل سرکار نے 18 افراد کو خاشقجی کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا ہے، جن میں سابق انٹیلجنس افسر ماہر المطرب بھی شامل ہے۔ یہ شخص کسی وقت ایم بی ایس کا ذاتی محافظ بھی رہا ہے۔ سعودی حکام نے الزام لگایا ہے کہ المطرب اس ٹیم کا سربراہ تھا جس نے خاشقجی کو قتل کردیا ہے۔ القحطانی اور العسیری کو [گویا] نوکری سے برخاست کیا گیا ہے اور القحطانی ان 17 سعودی باشندوں میں شامل ہے جن پر امریکی محکمہ خزانہ نے واشنگٹن پوسٹ کے مقتول صحافی کے قتل میں ملوث ہونے کے بموجب، پابندیاں لگائی ہیں۔ امریکی محکمۂ خزانہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ القحطانی متعلقہ منصوبے اور کاروائی کا حصہ تھا اور المطرب نے کاروائی کو ہمآہنگ کیا اور خاشقجی کو قتل کیا۔
سی آئی ہے: خاشقجی کے قتل کا حکم محمد بن سلمان نے دیا تھا
ڈیوڈ اگنیٹیس لکھتا ہے: میں جس جس سعودی مبصر سے ملا، اس کو یہی کہتا ہوا سنا کہ ممکن ہے کہ خاشقجی کے قتل پر ظہور پذیر ہونے والے غیظ و غضب کے باوجود، ایم بی ایس اقتدار میں باقی رہے۔ خاشقجی قتل کیس میں ایک "دھواں دینے والی بندوق" [اور اس قتل میں ایم بی ایس کے ملوث ہونے] کا سب سے قریب ترین ثبوت یہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ القطحانی نے خاشقجی کے قتل سے پہلے دو دنوں کے درمیان متعدد پیغامات بن سلمان کو دیئے ہیں اور اس سے جواب لیتا رہا ہے۔ لیکن جب تک کہ یہ پیغامات فاش نہیں ہونگے، تب تک یہ الزام ثابت کرنا ممکن نہيں ہوگا۔
ریاض میں ایم بی ایس کے شاہی دربار کے سفاکانہ مالیخولیا کو صدام کے ایام کا بغداد اچھی طرح یاد ہے۔ جو دِیا خاشقجی نے جلایا ہے، سعودی عرب اور امریکہ کو آخری موقع دے رہا ہے کہ وہ صدام کی طرح کی استبدادیت کو پورے علاقے میں نافذ کرنے سے باز رہیں۔
سعودی خاندان آج بھی کسی زمانے کے خونی ہاتھ سے حکمرانی کررہا ہے۔ امریکہ، اس بادشاہت کے کلیدی حلیف کے طور پر، مجبور ہے کہ اس خاندانی دشمنی پر قابو پا لے، قبل اس کے یہ خاندانی لڑائی سعودی عرب اور دنیا کو مزید نقصان پہنچا دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: ڈیوڈ اگنیٹیس (David Ignatius)
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲